2 نومبر 2011 - 20:30

موصولہ اطلاعات کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے ایک شیعہ نوجوان محمد علی کا سر قلم کیا اور ان کی لاش سڑک پر پھینک دی۔

ابنا: آج صبح گلگت میں ایک شیعہ نوجوان محمد علی ولد جوہر علی کو اغواہ کرلیا گیا تھا، شیعہ نوجوان محمد علی ولد جوہر علی ڈی ایچ کیو میں مالی کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔

اس رپورٹ کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے شیعہ نوجوان محمد علی ولد جوہر علی کو ذبح کرنے کے بعد ان کی لاش گلگت پل پر پھینک دی۔

واقعے کے بعد گلگت کے مقامی لوگوں کے اندر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اس واقعے کے خلاف پوری ملت تشیع سراپا احتجاج ہے۔

واضع رہے کے کل بھی ایک شیعہ نوجوان نثار حسین کو سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے نشانہ بنایا تھا۔

پورے ملکِ پاکستان بالخصوص کراچی کوئٹہ، گلگت، میں جاری شیعہ نسل کشی میں حالیہ دنوں میں شدید اضافہ ہوگیا ہے جبکہ حال ہی میں گلگت میں ان دہشت گرد ٹولوں کے سرگرم ہونے کے بعد پاکستان کی وزارت داخلہ نے علاقے کی پر امن شیعہ تنظیموں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جبکہ کالعدم ٹولے پاکستان کے تمام علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔ مظلوم بھی شیعہ اور  الزام بھی شیعہ پر!!!؟

بشکریہ از شیعت نیوز

یادرہے کہ دنیا کے کسی قانون میں بھی کالعدم ٹولوں کو فعالیت کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر ان ٹولوں کے عناصر ہاتھ پاؤں ہلائیں تو انہیں کڑی سزائیں دی جاتی ہیں لیکن پاکستان کی کالعدم جماعتیں بھی اس ملک کی سیاست کی مانند دنیا کے کسی ملک سے مشابہت نہیں رکھتیں۔ یہاں تمام کالعدم جماعتوں کو نام نہاد "کالعدم طالبان" یا "نام نہاد کالعدم لشکر جھنگوی" یا پھر نام نہاد "کالعدم سپاہ صحابہ" کے جھنڈے تلے دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینے کی کھلی اجازت دی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گلگت کے پرامن اور محب وطن شیعہ باشندوں کو بھی حکومت کے تجاہل عارفانہ کی بنا پر دہشت گردوں کے طوفان بدتمیزی میں گھسیٹ دیا جاتا ہے۔  ............

/169 - 110